ساون رُت

گہرے بادل پھر آچکے ہیں، گھروں میں خاص پکوان تیار کیے جا رہے ہیں۔ دعوتوں کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ خواتین فیشن کی جدت پر بات کر رہی اور مرد حضرات کے درمیان سیاسیات پر بات ہو رہی ہے۔ ساری عقل اور دانش اس کمرے میں ہی جمع ہو چکی ہے۔  ایسے میں ایک صاحب سگریٹ کا کش لیتےہوئے بارش کے دوران سڑکوں اور گلیوں میں پانی کے نکاس کے مثئلے کو لے کر حکومت وقت کی خوب دھلائی کر رہے ہیں اور پھر کمرے میں موجود تمام توپوں کا رخ اسی موضوع پر ہو جاتا ہے۔ کوئی نکاسی آب کے لیے  جدید آلات کی بات کر رہا ہے اور کوئی حکمرانوں کو آڑھے ہاتھوں لے رہا ہے اور ان سب کو خاموش کرانے والی ایک آوازآتی ہے “کھانا تیار ہے”۔

مون سون کے دنوں میں نکاسی آب واقع ہی ایک بڑا مثئلہ ہے۔ نکاسی آب پر ہم حکومت وقت کوتو  نشانہ بنالیتے ہیں اور ان کو “انتہائی اچھے” القابات سے بھی نواز دیا جاتا ہے مگراس دوران ہم اپنی ذمہ داریوں سے بری ہو جاتے ہیں ہم نے  کبھی اپنے گریبان میں جھانک کے نہی دیکھا کہ ہماری کیا ذمہ داری ہے۔ عام طور پر ہم بازار سے کچھ خرید یں تودکاندار سے پلاسٹک بیگ کا تقاضا کرتے ہیں، جوس کافی پی کر ڈ سپوزبل مگ چلتی گاڑی سے باہر پھینک دیا جاتا ہے۔ اپنے بچے کو چاکلیٹ دلائی اور ختم ہونے پر بھی اس کو گاڑی میں کچھ نا پھینکنے کا حکم صادر کردیا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ  گاڑی سے چیزیں باہر پھینکنا تو عام بات ہے۔

ہم اپنے گھروں کو صاف رکھنے کے لیے کیا کیا تردد نہیں کرتے مگر کیا اپنے گلی محلے کو صاف رکھنے کے لیے کیا کرتے ہیں؟ ہم اپنے بچوں کو گھر صاف رکھنا تو سکھاتے ہیں مگر اُن کو اپنے گلی محلے صاف رکھنا نہیں بتاتے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان سب باتوں سے نکاسی آب کا کیا تعلق۔ اگر دیکھا جائے تو بہت گہرا تعلق ہے۔

میونسپل کمیٹی کا عملہ سڑک کنارے نکا سی آب کے لیے مصروف عمل ہےتاکہ آپ کو کم سے کم دشواری پیش آئے اور نالیوں میں سے پلاسٹک بیگ، مشروبات کی خالی بوتلیں، سگریٹ کی خالی ڈبیاں اور بہت کچھ جس کو مناسب طور پر تلف ہونا چاہیے، نالیوں سے نکل رہا ہے۔ نکاسی آب میں سب سے بڑی رکاوٹ آپ کا وہ غلیظ عمل ہے جو کسی غلاظت کی طرح پانی کے بہائومیں   رکاوٹ بنتا ہےاور وہ عمل ہے اپنے گھر، گاڑی سے گند نکال کراس کو  مناسب طور پرکوڑے کے ڈبے میں نہ پھینکنا۔

اگر ہر شہری اپنی اپنی ذمہ داری قبول کرے اور اپنے گھر کی طرح اپنےارد  گرد کے ماحول کو بھی صاف ستھرا رکھے تو یہی بارش زحمت بننے کی بجائے ہمارے لیے رحمت بن جائے گی۔ مہذب شہری ہونے کے ناطے یہ ہماری اولیں ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ تمام معملا ت کی ذمہ داری حکومت پر ڈالنے کی بجائے اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھنا چاہیے اور بحیثیت معزز شہری ان پر عمل کرنا چاہیے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>